تحریر:عادل فراز
حوزہ نیوز ایجنسی| ہندوستان محض ایک جغرافیائی وحدت نہیں، بلکہ تہذیب وثقافت اور اقوام وملل کے اعتبار سے بھی الگ شناخت کا حامل ہے ۔صدیوں پر محیط تاریخ نے اس ملک کو ایسا تشخص عطا کیا ہے جس میں تنوع اس کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھرتا ہے ۔دنیا میں کوئی دوسرا ملک ایسا نہیں ہے جہاں اتنی تہذیبیں ،زبانیں ،قومیں ،ان کی روایتیں ،فکری و عقیدتی دھارے ایک ہی قومی فریم میں اس طرح ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔
یقیناً ہماری شناخت تہواروں ،ملبوسات ،موسیقی ،رقص اورفنون لطیفہ میں جھلکتی ہے۔شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک ہر خطہ اپنی الگ تہذیبی رنگت رکھتا ہے، مگر یہ رنگ ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ ایک مشترکہ قوسِ قزح کی مانند باہم جڑے ہوئے ہیں۔ دیوالی، عید، کرسمس، گروپرب اور پونگل جیسے تہوار نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کی علامت ہیں بلکہ سماجی یگانگت کا عملی اظہار بھی ہیں۔ مگر ہندوستان کاسب سے بڑا امتیاز ہمارا سیکولر اور جمہوری کردار رہاہے ۔جمہوری اعتبار سے ہندوستان کی انفرادیت اس بات میں ہے کہ اس نے اسی وسیع تنوع کو اپنے آئینی ڈھانچے میں جگہ دی جس کا اظہار شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک ہوتاہے۔ سیکولرزم، کثرت میں وحدت اور بنیادی حقوق جیسے اصول اس جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ عوامی نمائندگی، آزاد عدلیہ اور کثیر الجماعتی نظام نے مختلف طبقات اور برادریوں کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، جو جمہوری تسلسل کے لیے ناگزیر ہے۔البتہ یہ تنوع جہاں طاقت ہے وہیں ایک مسلسل آزمائش بھی ہے۔ سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے رواداری، مکالمہ اور آئینی قدروں کی پاسداری ناگزیر ہے۔ جب بھی تہذیبی یا مذہبی اختلافات کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا، جمہوری روح کو نقصان پہنچا۔ اس کے برعکس، جب تنوع کو قبولیت اور احترام کے ساتھ اپنایا گیا تو ہندوستان نے ترقی اور استحکام کی نئی مثالیں قائم کیں۔ایسے جمہوری ملک میں اگر عدلیہ کی آزادی،قومی اداروں کےوقار ،اجتماعی اور انفرادی اظہار ،آئین پر انگشت نمائی ،اقلیتوں کو دبانے اور کچلنے کی سیاست اور انتخابی شفافیت پر سوال اٹھنے لگیں تو پھر نئے مسائل اور چیلینجز کا سامناہوتاہے ۔وہ بھی اگر جمہوری ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں انتخابی عدم شفافیت ،الیکشن کمیشن کی جانب داری اور مقتدر جماعت کی فسطائیت کے خلاف آواز اٹھارہی ہوں تو صورت حال مزید خطرناک ہوجاتی ہے ۔
جمہوریت کی بقااور آئینی قدروں کی مضبوطی کے لئے انتخابات میں شفافیت بڑا مسئلہ کا ہوناضروری ہے۔جمہوریت کی بنیاد عوام کی رائے ،آزاد انتخابات اور غیر جانب دار اداروں پر قائم ہوتی ہے ۔جب یہ بنیادیں مضبوط ہوں تو اختلاف رائے، احتجاج اور سیاسی کشمکش کے باوجود آئینی نظام کو ٹھیس نہیں پہنچتی۔ مگر جب انہی بنیادوں میں دراڑیں پڑنے لگیں تو جمہوری و آئینی نظام بھی کمزور پڑنے لگتاہے۔ آج بھارت کی جمہوریت کو درپیش سب سے سنگین سوال بھی یہی ہے کہ کیا اس کی بنیادیں واقعی مضبوط اور محفوظ ہیں؟ کیونکہ حالیہ برسوں میں جس طرح ’’ووٹ چوری‘ ‘ کو ایک سنگین جمہوری بحران کے طورپراٹھایاگیا اس نے نئی قومی بحث کو جنم دیاہے ۔حزب اختلاف ،خصوصاً کانگریس الزام عائد کرتی ہے کہ انتخابی عمل کے مختلف مراحل میں ایسی خامیاں اور مداخلتیں ہورہی ہیں جس سے عوامی مینڈیٹ کو چرایاجارہاہے ۔
ان کے مطابق ’ووٹ چوری‘ کا مطلب پولنگ بوتھ پر ہوئی دھاندلی نہیں بلکہ رائے دہندگان کی فہرست میں مشتبہ ترامیم ،اہل رائے دہندگان کے ناموں کو حذف کرنا،بعض علاقوں میں مخصوص انداراجات،سرکاری مشینری کا جانبدارانہ استعمال اور انتخابی ضابطۂ اخلاق پر غیر مساوی عمل درآمد بھی عوامی رائے کو چرانے کے متراد ف ہے۔ای وی ایم پر شکوک وشبہات برقرارہیں جب کہ سرکار اور عدالتوں اس کو محفوظ قرار دیتی ہیں مگر شفافیت کے مطالبے اور آزادانہ جانچ کی آوازیں بدستور اٹھتی رہتی ہیں۔راہل گاندھی نے جس طرح الیکشن کمیشن کی ایمانداری اور جانب داری کو چیلینج کیاہے اس نے انتخابی عمل کے اعتماد کو ٹھیس پہونچائی ہے ۔کیونکہ راہل کے الزامات پر الیکشن کمیشن نے اپنی جواب دہی طے نہیں کی بلکہ الزامات کا جواب الزامات سے دیا۔الیکشن کمشنر نے عوامی اعتماد کی بحالی کے لئے کسی آزادانہ جانچ کا اعلان نہیں کیااور نہ اس راہ میں کوئی پیش رفت کی گئی ۔ناقدین کے دعوے بھی بے بنیاد نہیں کیونکہ ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر کارروائی میں دہرامعیار ،مقتدر سیاسی شخصیات کے اشتعال انگیز بیانات پر نرم رویہ اور اپوزیشن کے معاملات میں سخت رخ ،یہ تمام باتیں کمیشن کے وقار پر سوال اٹھاتی ہیں۔ انتخابی ادارے کی ساکھ محض قانونی اختیارات سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد سے قائم رہتی ہے، اور یہی اعتماد کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔الیکشن کمیشن کو اعتبار کی بحالی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے ،ورنہ عوام کا غصہ کب بغاوت میں تبدیل ہوجائے ،نہیں کہاجاسکتا۔
انتخابی عمل میں عدم شفافیت اور الیکشن کمیشن کی جانب داری کے خلاف کانگریس ملک گیر سطح پر احتجاج اور تحریک شروع کرچکی ہے ۔کانگریس مسلسل ’ووٹ چوری ‘ کے خلاف آوازیں اٹھارہی ہے ۔ایس آئی آر کے عمل کو بھی ’ووٹ چوری ‘ سے جوڑ کر دیکھاجارہاہے ۔
بہار میں ہوئے انتخابات کے دوران ’ووٹ چوری ‘ اور نئی ووٹر لسٹ میں ترمیم و انداراجات پر سوال اٹھائے گئے تھے جس پر الیکشن کمیشن نےکوئی توجہ نہیں دی ۔کانگریس نے 14 دسمبر کو رام لیلا میدان میں ’ووٹ چوری‘ کے خلاف کامیاب ریلی منعقد کی ،جس میں شواہد کی روشنی میں الیکشن کمیشن کی جانب داری ،انتخابی عمل میں عدم شفافیت اور حکومت کے ذریعہ عوامی مینڈیٹ چرانے کو لے کر کئی اہم سوال پوچھے گئے ۔کانگریس کا مطالبہ ہے کہ رائے دہندگان کی فہرست کی آزادانہ جانچ ،EVM-VVPAT کے نظام میں مزید شفافیت،اور الیکشن کمیشن کی جواب دہی کو یقنی بنایاجائے ۔جب کہ بعض افراد کانگریس کی اس تحریک کو مسئلے کا حل نہیں مانتے ۔ان کا کہناہے کہ حزب اختلاف کو انتخابی اصلاحات کے لئے ٹھوس تجاویز ،قانونی راستوں اور عوامی بیداری کی منظم کوششیں کرنی چاہئیں۔البتہ یہ بھی ممکن نظر نہیں آتاکیونکہ جب الیکشن کمیشن آزادانہ جانچ سے فرار کررہاہو تو وہاں ٹھوس تجاویز سے کیاحاصل ہوگا۔عدالتیں حکومت کے زیر اثر ہیں اور وہ ای وی ایم اور رائے دہندگان کی نئی فہرست میں اہل رائے دہندگان کے ناموں کے حذف کرنےاور فرضی ناموں کے اندراجات پر سنجیدہ سماعت کے لئے تیار نظر نہیں آتیں ۔جب کہ ای وی ایم کے خلاف مسلسل آوازیں اٹھتی رہی ہیں ۔ بی جے پی بھی اقتدار میں آنے سے پہلے اس نظام کو مشتبہ قراردیتی رہی ہے ،مگر اب وہ بھی ای وی ایم کی حمایت میں زمین و آسمان کے قلابے ملارہی ہے ۔الیکشن کمیشن کو اس بدلتی ہوئی حمایت کے اسباب تلاش کرناہوں گے تاکہ شفاف انتخاب ممکن ہو اور اس کا کھویا ہواعوامی اعتماد بھی بحال ہوسکے ۔
حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت محض اداروں سے زندہ نہیں رہتی اور نہ صرف نعروں سے ۔اس کے لئے اعتماد ،شفافیت اور جواب دہی لازم ہے ۔اگر انتخابی عمل پر شکوک و شبہات بڑھتے رہے اور ادارے خاموش تماشائی یا متنازع بنتے گئے اور سیاسی جماعتیں محض الزام تراشی تک محدود رہیں تو جمہوریت کی بنیادیں مزید کمزور ہوں گی ۔لہذا ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی غیر جانبدارانہ حیثیت کو ثابت کرے ۔انتخابی عمل کو زیادہ شفاف بنایاجائے ۔جواب دہی طے ہونی چاہیے ۔اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ احتجاج کے ساتھ اصلاحی مکالمے ،ٹھوس تجاویز اور قانونی راستوں کاانتخاب کرے ۔کیونکہ اگر اپوزیشن کمزور یا ختم ہوتاہے تو جمہوریت کو آمریت میں بدلتے ہوئے دیر نہیں لگے گی۔









آپ کا تبصرہ